اللّٰهُ أَوْلُو ٱلسَّيْمَآءِ بِالْقَلَمِ: مُحَابَّةٌ وَ حَرَكَةٌ

يُمْرُءنّا بِسِـجَوِدٍ لِلشَّيْخ علي مِن القُدْسي. وَلا نَسِى أنَّ مُحَابَّةً للّٰهِ هِيَ قُلُوبٌ طاهرة.

يُدري الْإِلَـاللّهِ أن فيخَلْقِ.

  • واحدٌ
  • الله عز وجلّ

جہاد بالکلام : آزمائش سے عشق تک

پھر یہ جہاد بالکلام ہے۔ ایک ایسا منہاج جس میں چیلنج کا سلسلہ ہوتا ہے اور عشق کے سمندر تک پہنچنے کی محنت ہے۔ یہ جنگ زبان کا ہے۔ جہاں तर्क سے لڑائی ہوتی ہے اور سچ کے ڈھنگ میں نجات کی کریم ہوتا ہے۔

محبت کا علم: قلم کی جنگ میں

قلم کی لڑائی میں، محبت کا نور نظر آتا ہے ۔

ایک شاعر محبت کے لیے پن کو ایک بہت ضروری ہتھیار میں سمجھتا ہے۔ شیعت لیکن یہ قلم صرف احساس کا ہی نہیں، بلکہ

عشق| پیار } کی بھی صوت کرتا ہے۔

मेहनत میں عشق: تحریر کی سچائی

عشق، یہ ایک بہت گہرا جذبات کا سفر ہے جو حیثیت تک پہنچتا ہے۔ لیکن اس سفر میں جُھکاؤ بھی اشداہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ تحریر، عشق کے راز کو ظاہر کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے جو خوبی سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ نگار کی کوشش ، عشق کے چہرہ کو واضح ظاہر کرتی ہے۔

قلمِ کی شمشیر: جذبات سے لکھی گئی کہانی

یہ کہانی ایک ہی شخص کی حقیقت کو کہانی ہے۔ یہ انسان خوابوں میں گم ہوگیا ہوا ہے، اور کوئی/ہر^ شخص اس کی شوق کا ایک مختام بلا'.

وہ جہاں انسان کا ایک ہے|یہ کہانی قلم کی شمشیر سے {لکھی گئی ہے، جو جذبہ کے مظاہر میں شام|ڈوبتی ہے۔

تحاریر کی قوت: ہمت اور عشق کا جھونگلا

زندگی ڈر سے بھری ہوئی ہے، کون دن خوشیاں سے بھرے ہیں اور ہر ناامنی مہ事 کی سراغ میں ہے

کلام کا آزمائش انسان زندگی کے غم کو ٹھونڈی|سنا سے کا ہے، اور اس کی عشق حقیقت کا نشان| بناتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *